Social icons

Showing posts with label Letters & Application. Show all posts
Showing posts with label Letters & Application. Show all posts

Tuesday, 7 April 2026

Top 10 Moral Stories for Students with English and Urdu Translation


Top 10 short moral stories in English with Urdu translation for students with moral lessons.

 Introduction

English: Moral stories play a vital role in building character and improving language skills for students. In English board exams for Class 9 and 10, writing a moral story is a compulsory question that carries significant marks. To help students excel, we have compiled the Top 10 Important Moral Stories with their complete English text and easy Urdu translations. Each story follows the official examination pattern and includes a clear moral lesson at the end.

اردو ترجمہ: اخلاقی کہانیاں کردار سازی اور طلبہ کی لسانی مہارتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نویں اور دسویں جماعت کے انگریزی کے بورڈ امتحانات میں، اخلاقی کہانی لکھنا ایک لازمی سوال ہے جس کے نمایاں نمبر ہوتے ہیں۔ طلبہ کی مدد کے لیے، ہم نے ٹاپ 10 اہم اخلاقی کہانیاں مکمل انگریزی متن اور آسان اردو ترجمہ کے ساتھ تیار کی ہیں۔ ہر کہانی آفیشل امتحانی پیٹرن کے مطابق ہے اور اس کے آخر میں واضح اخلاقی سبق شامل ہے۔



1. The Thirsty Crow (پیاسا کوا)

1. The Thirsty Crow

English Version (Exam Style): Once there was a crow. He was very thirsty. He flew here and there in search of water but could not find it anywhere. At last, he reached a garden. There he saw a pitcher with a little water at the bottom. His beak could not reach the water. He did not lose heart and thought of a plan. He saw some pebbles lying nearby. He picked them up one by one and dropped them into the pitcher. The water rose up to the brim. He drank the water and flew away happily. Moral: * Necessity is the mother of invention. Where there is a will, there is a way. اردو ترجمہ: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا تھا۔ وہ بہت پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر اڑا لیکن اسے کہیں پانی نہ ملا۔ آخر کار وہ ایک باغ میں پہنچا۔ وہاں اس نے ایک گھڑا دیکھا جس کی تہہ میں تھوڑا سا پانی تھا۔ اس کی چونچ پانی تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور ایک منصوبہ سوچا۔ اس نے پاس ہی پڑے ہوئے کچھ کنکر دیکھے۔ اس نے ایک ایک کر کے انہیں اٹھایا اور گھڑے میں ڈالنا شروع کر دیا۔ پانی اوپر کنارے تک آ گیا۔ اس نے پانی پیا اور خوشی خوشی اڑ گیا۔ اخلاقی سبق: ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ جہاں چاہ، وہاں راہ۔
📖
2. The Greedy Dog (لالچی کتا)

2. The Greedy Dog

English Version (Exam Style): Once a dog found a piece of meat. He was very happy and decided to eat it in a lonely place. On his way, he had to cross a stream. While crossing the bridge, he saw his own reflection in the clear water. He thought it was another dog with a larger piece of meat. He became greedy and wanted to have that piece too. He opened his mouth to bark at his reflection. As he did so, his own piece of meat fell into the water and was lost. He was left with nothing and felt very sad for his greed. Moral: Greed is a curse. All covet, all lose. اردو ترجمہ: ایک دفعہ ایک کتے کو گوشت کا ایک ٹکڑا ملا۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے اسے کسی تنہا جگہ پر بیٹھ کر کھانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں اسے ایک ندی پار کرنی پڑی۔ پل پار کرتے ہوئے اس نے صاف پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اس نے سوچا کہ یہ کوئی دوسرا کتا ہے جس کے پاس گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا ہے۔ وہ لالچ میں آ گیا اور وہ ٹکڑا بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے عکس پر بھونکنے کے لیے اپنا منہ کھولا۔ جیسے ہی اس نے ایسا کیا، اس کا اپنا گوشت کا ٹکڑا پانی میں گر گیا اور ضائع ہو گیا۔ اس کے پاس کچھ نہ بچا اور وہ اپنے لالچ پر بہت افسردہ ہوا۔ اخلاقی سبق: لالچ بری بلا ہے۔ زیادہ کی ہوس میں سب کچھ کھو جاتا ہے۔
📖
3. The Hare and the Tortoise (خرگوش اور کچھوا)

3. The Hare and the Tortoise

English Version (Exam Style): Once a hare and a tortoise lived in a forest. The hare was very proud of his speed and used to make fun of the slow-moving tortoise. One day, he challenged the tortoise to a race. The race started, and the hare ran very fast. Soon, he was far ahead and decided to take a short nap under a shady tree. He fell into a deep sleep. Meanwhile, the tortoise kept crawling slowly but steadily. He passed the sleeping hare and reached the finishing point. When the hare woke up, he ran as fast as he could, but it was too late. The tortoise had already won the race. Moral: * Slow and steady wins the race. Pride hath a fall. اردو ترجمہ: ایک دفعہ ایک جنگل میں ایک خرگوش اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ خرگوش کو اپنی تیز رفتاری پر بہت فخر تھا اور وہ آہستہ چلنے والے کچھوے کا مذاق اڑاتا تھا۔ ایک دن اس نے کچھوے کو دوڑ کا چیلنج دیا۔ دوڑ شروع ہوئی اور خرگوش بہت تیزی سے بھاگا۔ جلد ہی وہ بہت آگے نکل گیا اور اس نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے تھوڑی دیر سونے کا فیصلہ کیا۔ وہ گہری نیند سو گیا۔ اس دوران کچھوا آہستہ آہستہ لیکن مستقل مزاجی سے چلتا رہا۔ وہ سوئے ہوئے خرگوش کے پاس سے گزرا اور آخری مقام پر پہنچ گیا۔ جب خرگوش جاگا تو وہ اپنی پوری رفتار سے بھاگا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ کچھوا پہلے ہی دوڑ جیت چکا تھا۔ اخلاقی سبق: مستقل مزاجی کی جیت ہوتی ہے۔ غرور کا سر نیچا۔
📖
4. A Friend in Need is a Friend Indeed (ضرورت کے وقت کام آنے والا ہی سچا دوست ہے)

4. A Friend in Need is a Friend Indeed

English Version (Exam Style): Once two friends were traveling through a forest. They promised to help each other in case of any danger. Suddenly, they saw a large bear coming towards them. One of the friends was quick at climbing trees, so he immediately climbed up a tall tree without thinking about his friend. The other friend did not know how to climb. He lay down on the ground and held his breath, pretending to be dead. He had heard that bears do not eat dead bodies. The bear came near him, sniffed his ears, and thought he was dead. So, it went away. When the bear was gone, the friend from the tree came down and asked, "What did the bear whisper in your ear?" The other replied, "The bear advised me not to trust a selfish friend who leaves his companion in danger." Moral: * A friend in need is a friend indeed. Beware of selfish friends. اردو ترجمہ: ایک دفعہ دو دوست ایک جنگل سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ اچانک انہوں نے ایک بڑے ریچھ کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ ایک دوست درخت پر چڑھنے میں ماہر تھا، چنانچہ وہ اپنے دوست کے بارے میں سوچے بغیر فوراً ایک اونچے درخت پر چڑھ گیا۔ دوسرے دوست کو درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا۔ وہ زمین پر لیٹ گیا اور اپنی سانس روک لی، گویا وہ مر چکا ہو۔ اس نے سن رکھا تھا کہ ریچھ مردہ اجسام نہیں کھاتے۔ ریچھ اس کے پاس آیا، اس کے کانوں کو سونگھا اور اسے مردہ سمجھ کر چلا گیا۔ جب ریچھ چلا گیا تو درخت والا دوست نیچے اترا اور مذاق میں پوچھا، "ریچھ نے تمہارے کان میں کیا سرگوشی کی؟" دوسرے نے جواب دیا، "ریچھ نے مجھے مشورہ دیا کہ کسی ایسے خود غرض دوست پر بھروسہ نہ کرو جو اپنے ساتھی کو خطرے میں چھوڑ دے۔" اخلاقی سبق: دوست وہی جو مصیبت میں کام آئے۔ خود غرض دوستوں سے ہوشیار رہو۔
📖
5. The Lion and the Mouse (شیر اور چوہا)

5. The Lion and the Mouse

English Version (Exam Style): Once a lion was sleeping in a forest. A mouse came there and started jumping over his body. The lion woke up in a great rage and caught the little mouse in his paw. He was about to kill it when the mouse begged for mercy, saying, "Please spare my life, I might help you one day." The lion laughed and let it go. A few days later, the lion was caught in a hunter's net. He tried hard but could not break the ropes. He began to roar loudly. The little mouse heard him and reached the spot. It started gnawing the ropes with its sharp teeth. Soon, the lion was free. He thanked the mouse for its help and realized that even a small creature can be of great help. Moral: * Do good, have good. Small deeds can yield big results. اردو ترجمہ: ایک بار ایک شیر جنگل میں سو رہا تھا۔ ایک چوہا وہاں آیا اور اس کے جسم پر اچھل کود کرنے لگا۔ شیر غصے میں جاگ اٹھا اور چھوٹے چوہے کو اپنے پنجے میں پکڑ لیا۔ وہ اسے مارنے ہی والا تھا کہ چوہے نے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے کہا، "براہ کرم میری جان بخش دیں، شاید میں کسی دن آپ کے کام آ جاؤں۔" شیر ہنسا اور اسے جانے دیا۔ کچھ دن بعد شیر ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ اس نے بہت کوشش کی لیکن رسیاں نہ توڑ سکا اور زور زور سے دھاڑنے لگا۔ چھوٹے چوہے نے اس کی آواز سنی اور وہاں پہنچ گیا۔ اس نے اپنے تیز دانتوں سے رسیاں کترنا شروع کر دیں۔ جلد ہی شیر آزاد ہو گیا۔ اس نے چوہے کا شکریہ ادا کیا اور اسے احساس ہوا کہ ایک چھوٹی سی مخلوق بھی بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اخلاقی سبق: کر بھلا ہو بھلا۔ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
📖
6. Union is Strength (اتفاق میں برکت ہے)

6. Union is Strength

English Version (Exam Style): Once there was an old man who had three sons. They were always quarreling with one another. The old man was very worried about their future. One day, he hit upon a plan to teach them a lesson. He called his sons and asked them to bring a bundle of sticks. He asked each of his sons to break the bundle, but none could do it. Then he untied the bundle and gave one stick to each son. They broke the single sticks very easily. The old man said, "My sons, if you remain united like the bundle, no one can harm you. But if you are divided, you will be broken as easily as these single sticks." The sons learned a lesson and promised to live in peace. Moral: * Union is strength. United we stand, divided we fall. اردو ترجمہ: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بوڑھا آدمی تھا جس کے تین بیٹے تھے۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ بوڑھا آدمی ان کے مستقبل کے بارے میں بہت فکر مند تھا۔ ایک دن اس نے انہیں سبق سکھانے کے لیے ایک منصوبہ سوچا۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور انہیں لکڑیوں کا گٹھا لانے کو کہا۔ اس نے اپنے باری باری ہر بیٹے سے گٹھا توڑنے کو کہا، لیکن کوئی بھی اسے نہ توڑ سکا۔ پھر اس نے گٹھا کھولا اور ہر بیٹے کو ایک ایک لکڑی دی۔ انہوں نے ان اکیلی لکڑیوں کو بڑی آسانی سے توڑ دیا۔ بوڑھے نے کہا، "میرے بیٹو! اگر تم اس گٹھے کی طرح متحد رہو گے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ لیکن اگر تم تقسیم ہو گئے تو تم ان اکیلی لکڑیوں کی طرح آسانی سے توڑ دیے جاؤ گے۔" بیٹوں نے سبق سیکھ لیا اور پیار و محبت سے رہنے کا وعدہ کیا۔ اخلاقی سبق: اتفاق میں برکت ہے۔ اتحاد میں طاقت ہے۔
📖
7. Honesty is the Best Policy (ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے)

7. Honesty is the Best Policy

English Version (Exam Style): Once there was a woodcutter. He was very poor but honest. One day, while he was cutting wood on the bank of a river, his axe slipped and fell into the deep water. He began to cry loudly. Suddenly, an angel appeared and asked the reason for his grief. The woodcutter told him everything. The angel dived into the water and brought out a golden axe. The woodcutter refused to take it. Then the angel brought a silver axe, but he refused again. Finally, the angel brought his original iron axe. The woodcutter was very happy and took it. The angel was so impressed by his honesty that he gave him all three axes as a reward. Moral: * Honesty is the best policy. Honest work always pays off. اردو ترجمہ: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لکڑہارا تھا۔ وہ بہت غریب لیکن ایماندار تھا۔ ایک دن جب وہ دریا کے کنارے لکڑیاں کاٹ رہا تھا تو اس کی کلہاڑی پھسل کر گہرے پانی میں گر گئی۔ وہ اونچی آواز میں رونے لگا۔ اچانک ایک فرشتہ نمودار ہوا اور اس کے دکھ کی وجہ پوچھی۔ لکڑہارے نے اسے سب کچھ بتا دیا۔ فرشتے نے پانی میں غوطہ لگایا اور سونے کی کلہاڑی نکال لایا۔ لکڑہارے نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ پھر فرشتہ چاندی کی کلہاڑی لایا، لیکن اس نے پھر انکار کر دیا۔ آخر کار فرشتہ اس کی اصلی لوہے کی کلہاڑی لایا۔ لکڑہارا بہت خوش ہوا اور اسے لے لیا۔ فرشتہ اس کی ایمانداری سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے انعام کے طور پر اسے تینوں کلہاڑیاں دے دیں۔ اخلاقی سبق: ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے۔ ایمانداری کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
📖
8. The Boy who Cried Wolf (جھوٹا چرواہا)

8. The Boy who Cried Wolf

English Version (Exam Style): Once there was a shepherd boy who used to graze his sheep near a forest. One day, he decided to play a trick on the villagers. He started shouting, "Wolf! Wolf! Help!" The villagers ran to help him with sticks. When they arrived, there was no wolf. The boy laughed at them. He repeated the same trick after a few days. One day, a wolf actually came and attacked his sheep. The boy cried for help with all his might, "Wolf! Wolf! Please help me!" But this time, the villagers thought he was lying again, so no one came to help him. The wolf killed many of his sheep. The boy learned that nobody believes a liar even when he speaks the truth. Moral: * Once a liar, always a liar. Never tell a lie. اردو ترجمہ: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چرواہا لڑکا تھا جو جنگل کے قریب اپنی بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے دیہاتیوں کے ساتھ مذاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے چلانا شروع کر دیا، "بھیڑیا! بھیڑیا! بچاؤ!" دیہاتی لاٹھیاں لے کر اس کی مدد کو دوڑے۔ جب وہ پہنچے تو وہاں کوئی بھیڑیا نہیں تھا۔ لڑکا ان پر ہنسنے لگا۔ اس نے چند دنوں کے بعد یہی مذاق دوبارہ دہرایا۔ ایک دن واقعی ایک بھیڑیا آ گیا اور اس کی بھیڑوں پر حملہ کر دیا۔ لڑکا اپنی پوری طاقت سے چلایا، "بھیڑیا! بھیڑیا! براہ کرم میری مدد کرو!" لیکن اس بار دیہاتیوں نے سوچا کہ وہ دوبارہ جھوٹ بول رہا ہے، اس لیے کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ بھیڑیے نے اس کی بہت سی بھیڑیں مار دیں۔ لڑکے نے سیکھ لیا کہ جھوٹے پر کوئی یقین نہیں کرتا، چاہے وہ سچ ہی کیوں نہ بول رہا ہو۔ اخلاقی سبق: جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے۔ جھوٹے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
📖
9. The Fox and the Grapes (لومڑی اور انگور)

9. The Fox and the Grapes

English Version (Exam Style): Once a fox was very hungry. He went into a garden in search of food. There he saw bunches of ripe grapes hanging from a vine. His mouth began to water. He jumped again and again to reach them, but they were too high for him. After many failed attempts, the fox was tired and exhausted. He realized that he could not get the grapes. He went away saying, "The grapes are sour. I do not want to eat them." He tried to hide his failure by making an excuse. Moral: * Grapes are sour. It is easy to despise what you cannot get. اردو ترجمہ: ایک بار ایک لومڑی بہت بھوکی تھی۔ وہ کھانے کی تلاش میں ایک باغ میں گئی۔ وہاں اس نے بیل سے لٹکے ہوئے پکے ہوئے انگوروں کے گچھے دیکھے۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ ان تک پہنچنے کے لیے بار بار اچھلی، لیکن وہ اس کے لیے بہت اونچے تھے۔ کئی ناکام کوششوں کے بعد لومڑی تھک کر چور ہوگئی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ انگور حاصل نہیں کر سکتی۔ وہ یہ کہتے ہوئے چلی گئی، "انگور کھٹے ہیں۔ میں انہیں کھانا نہیں چاہتی۔" اس نے بہانہ بنا کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کی۔ اخلاقی سبق: انگور کھٹے ہیں۔ جس چیز کو حاصل نہ کر سکو، اسے برا کہنا آسان ہے۔
📖
10. The Slave and the Lion (غلام اور شیر)

10. The Slave and the Lion

English Version (Exam Style): Once there was a slave whose master was very cruel. He escaped from his master and hid in a forest. While walking, he saw a lion groaning with pain. The slave saw a large thorn in the lion's paw. He took courage, went near the lion, and pulled out the thorn. The lion felt relieved and went away without harming him. After some time, the slave was caught and sentenced to be thrown before a hungry lion. On the day of execution, the lion was released. Instead of killing the slave, the lion began to lick his feet. It was the same lion he had helped in the forest. The master was amazed and set the slave free. Moral: * Do good, have good. Kindness never goes unrewarded. اردو ترجمہ: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غلام تھا جس کا مالک بہت ظالم تھا۔ وہ اپنے مالک سے بھاگ گیا اور ایک جنگل میں چھپ گیا۔ چلتے ہوئے اس نے ایک شیر کو درد سے کراہتے ہوئے دیکھا۔ غلام نے شیر کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا دیکھا۔ اس نے ہمت کی، شیر کے پاس گیا اور کانٹا نکال دیا۔ شیر کو سکون ملا اور وہ اسے نقصان پہنچائے بغیر چلا گیا۔ کچھ عرصہ بعد غلام پکڑا گیا اور اسے بھوکے شیر کے سامنے پھینکنے کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے دن شیر کو چھوڑا گیا۔ غلام کو مارنے کے بجائے شیر اس کے پاؤں چاٹنے لگا۔ یہ وہی شیر تھا جس کی اس نے جنگل میں مدد کی تھی۔ مالک حیران رہ گیا اور غلام کو آزاد کر دیا۔ اخلاقی سبق: کر بھلا ہو بھلا۔ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے۔
📖

Conclusion

 English: We hope this collection of moral stories will be highly beneficial for your exam preparation and personal growth. Practice writing these stories with correct punctuation and headings to secure maximum marks in your English paper. Don't forget to bookmark this page for quick revision before your exams. If you find these stories helpful, please share them with your friends. For more educational content, stay tuned to Essays For All Student. اردو ترجمہ: ہم امید کرتے ہیں کہ اخلاقی کہانیوں کا یہ مجموعہ آپ کے امتحان کی تیاری اور ذاتی ترقی کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انگریزی کے پرچے میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے لیے ان کہانیوں کو درست پنکچویشن اور سرخیوں کے ساتھ لکھنے کی مشق کریں۔ امتحانات سے پہلے فوری دہرائی کے لیے اس پیج کو بُک مارک کرنا نہ بھولیں۔ اگر آپ کو یہ کہانیاں مفید لگیں تو براہ کرم انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ مزید تعلیمی مواد کے لیے، Essays For All Student سے جڑے رہیں۔ SEO پرو ٹپ:

Sunday, 5 April 2026

Top 10 Application

1. Application for Sick Leave

1. Application for Sick Leave (English)

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Application for Sick Leave

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. I have been suffering from a high fever since last night. The doctor has advised me to take complete rest for two days.

Therefore, I cannot come to school. Kindly grant me leave for two days from (Date) to (Date). I shall be very thankful to you for this favor.

Yours obediently, X. Y. Z.

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)

بیماری کی رخصت کی درخواست (اردو ترجمہ)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: بیماری کی رخصت کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے کل رات سے تیز بخار ہے۔ ڈاکٹر نے مجھے دو دن مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔

اسی وجہ سے، میں اسکول حاضر نہیں ہو سکتا۔ برائے مہربانی مجھے دو دن کی رخصت (تاریخ) سے (تاریخ) تک عنایت فرمائیں۔ میں آپ کی اس نوازش کے لیے بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

جماعت: دہم


2. Application for Urgent Piece of Work

2. Application for Urgent Piece of Work (English)

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Application for Urgent Piece of Work

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. I have an urgent piece of work at home. For this reason, I cannot attend the school today.

Kindly grant me leave for one day only. I shall be very thankful to you for this kindness.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)

ضروری کام کی درخواست (اردو ترجمہ)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: ضروری کام کی رخصت کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے گھر پر ایک بہت ضروری کام درپیش ہے۔ اس وجہ سے، میں آج اسکول میں حاضر نہیں ہو سکتا۔

برائے مہربانی مجھے صرف ایک دن کی رخصت عنایت فرمائیں۔ میں آپ کی اس مہربانی کے لیے بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

جماعت: دہم

3. Application for Full Fee Concession

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Full Fee Concession

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. I am a hardworking and brilliant student. My father is a poor laborer. His monthly income is very low and he has to support a large family.

In these circumstances, it is very difficult for him to pay my school fee. I have a great desire to continue my studies as I always get good marks in my exams. Therefore, I request you to kindly grant me full fee concession so that I may complete my education.

I shall be very thankful to you for this act of kindness.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Roll No: 20 

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: مکمل فیس معافی کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ میں ایک محنتی اور ذہین طالب علم ہوں۔ میرے والد ایک غریب مزدور ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی بہت کم ہے اور انہیں ایک بڑے خاندان کی کفالت کرنی پڑتی ہے۔

ان حالات میں، ان کے لیے میری اسکول کی فیس ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ مجھے اپنی تعلیم جاری رکھنے کا بہت شوق ہے کیونکہ میں ہمیشہ امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرتا ہوں۔ لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی میری مکمل فیس معاف فرما دیں تاکہ میں اپنی تعلیم مکمل کر سکوں۔

میں آپ کی اس ذرہ نوازی پر بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 20 

جماعت: دہم

4. Application for Remission of Fine

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Remission of Fine

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. Our class teacher has fined me 500 rupees for being absent from school for one week.

The reason for my absence was my sudden illness. I was suffering from a severe throat infection and could not even send a leave application. My father is a poor man with a limited income. It is very difficult for him to pay this heavy fine. I have always been a punctual student with a good record.

Therefore, I request you to kindly remit my fine. I shall be very thankful to you for this favor.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Roll No: 12

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: جرمانہ معافی کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ ہمارے کلاس ٹیچر نے ایک ہفتہ اسکول سے غیر حاضر رہنے پر مجھے 500 روپے جرمانہ کیا ہے۔

میری غیر حاضری کی وجہ میری اچانک بیماری تھی۔ میں گلے کے شدید انفیکشن میں مبتلا تھا اور رخصت کی درخواست بھی نہیں بھیج سکا تھا۔ میرے والد ایک غریب آدمی ہیں اور ان کی آمدنی محدود ہے۔ ان کے لیے اتنا بھاری جرمانہ ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ میں ہمیشہ سے ایک وقت کا پابند طالب علم رہا ہوں اور میرا ریکارڈ بھی اچھا ہے۔

لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی میرا جرمانہ معاف فرما دیں۔ میں اس نوازش کے لیے آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ 

رول نمبر: 12 

جماعت: دہم

5. Application for School Leaving Certificate

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for School Leaving Certificate

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. My father, who is a government servant, has been transferred from this city to Lahore. My whole family is shifting there next week.

In these circumstances, it is not possible for me to stay here alone and continue my studies in this school. Therefore, I request you to kindly issue me my School Leaving Certificate so that I may get admission to a school in Lahore. I have cleared all my dues.

I shall be very thankful to you for this favor.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Roll No: 15 

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ (SLC) حاصل کرنے کی درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ میرے والد صاحب، جو کہ ایک سرکاری ملازم ہیں، ان کا تبادلہ اس شہر سے لاہور ہو گیا ہے۔ میرا پورا خاندان اگلے ہفتے وہاں منتقل ہو رہا ہے۔

ان حالات میں، میرے لیے یہاں اکیلے رہنا اور اس اسکول میں اپنی تعلیم جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ (School Leaving Certificate) جاری فرما دیں تاکہ میں لاہور کے کسی اسکول میں داخلہ لے سکوں۔ میں نے اسکول کے تمام واجبات ادا کر دیے ہیں۔

میں آپ کی اس نوازش کے لیے بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 15 

جماعت: دہم

6. Application for Character Certificate

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Character Certificate

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I have recently passed my 10th class examination from your school with a high grade. My roll number was (Write your Roll No here).

Now, I want to take admission in a college for further studies. For this purpose, I am required to submit a character certificate along with my admission form. During my stay at this school, I have always been a well-behaved and disciplined student. I also participated in various co-curricular activities.

Therefore, I request you to kindly issue me my Character Certificate. I shall be very grateful to you for this act of kindness.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں نے حال ہی میں آپ کے اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا ہے۔ میرا رول نمبر (یہاں اپنا رول نمبر لکھیں) تھا۔

اب میں مزید تعلیم کے لیے کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے مجھے داخلہ فارم کے ساتھ کیریکٹر سرٹیفکیٹ جمع کروانا ضروری ہے۔ اس اسکول میں قیام کے دوران میں ہمیشہ ایک بااخلاق اور باضابطہ طالب علم رہا ہوں۔ میں نے ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے میرا کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری فرما دیں۔ میں آپ کی اس ذرہ نوازی کے لیے بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ 

جماعت: دھم


7. Application for Change of Subject

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Change of Subject

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 9th in your school. At the time of admission, I chose Biology as an elective subject. However, after attending classes for one month, I find it very difficult to understand.

I am more interested in Computer Science and believe that I can perform much better in that subject. Therefore, I request you to kindly allow me to change my subject from Biology to Computer Science. I have already consulted with the concerned teachers.

I shall be very thankful to you for this favor.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Roll No: 25 

Class: 9th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: مضمون تبدیل کرنے کی درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں نویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ داخلے کے وقت میں نے بطور اختیاری مضمون بیالوجی کا انتخاب کیا تھا۔ تاہم، ایک ماہ تک کلاسیں لینے کے بعد مجھے یہ سمجھنے میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔

میرا رجحان کمپیوٹر سائنس کی طرف زیادہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں اس مضمون میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہوں۔ لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے بیالوجی کی جگہ کمپیوٹر سائنس کا مضمون رکھنے کی اجازت دی جائے۔ میں نے اس سلسلے میں متعلقہ اساتذہ سے بھی مشورہ کر لیا ہے۔

میں اس نوازش کے لیے آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 25 

جماعت: نہم


8. Application for Re-admission

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Re-admission

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. My name was struck off from the school rolls last week due to my continuous absence for ten days.

The reason for my absence was my father's sudden illness. He was hospitalized, and being the only son, I had to look after him and manage house affairs. Due to this emergency, I could not send a leave application to the school. I am a regular student and do not want to waste my academic year.

Therefore, I request you to kindly allow me re-admission so that I can continue my studies. I assure you that I will be very punctual in the future.

Yours obediently, X. Y. Z. 

Roll No: 30 

Class: 10th

Back to Top (اوپر جائیں)


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: دوبارہ داخلے کے لیے درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ پچھلے ہفتے مسلسل دس دن غیر حاضر رہنے کی وجہ سے میرا نام اسکول سے خارج کر دیا گیا تھا۔

میری غیر حاضری کی وجہ میرے والد صاحب کی اچانک بیماری تھی۔ وہ ہسپتال میں داخل تھے اور اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے مجھے ان کی دیکھ بھال کرنی پڑی اور گھر کے معاملات سنبھالنے پڑے۔ اس ہنگامی صورتحال کی وجہ سے میں اسکول میں رخصت کی درخواست نہیں بھیج سکا۔ میں ایک باقاعدہ طالب علم ہوں اور اپنا تعلیمی سال ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے دوبارہ داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مستقبل میں وقت کا پابند رہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 30 

جماعت: دہم

Back to Top (اوپر جائیں)

9. Application for Issuance of Library Card

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Issuance of Library Card

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. I have a great interest in reading extra books to improve my general knowledge and vocabulary.

I want to use the school library during my free periods and also want to borrow books for home study. For this purpose, I need a library card. Without a card, I cannot get any books issued from the librarian.

Therefore, I request you to kindly issue me a library card so that I can benefit from our school library. I assure you that I will follow all the rules of the library.

Yours obediently, X. Y. Z.

Roll No: 45 

Class: 10th

 Back to Top (اوپر جائیں)



اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: لائبریری کارڈ جاری کرنے کی درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ مجھے اپنے عمومی علم اور الفاظ کے ذخیرے میں اضافے کے لیے اضافی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔

میں فارغ پیریڈز کے دوران اسکول کی لائبریری استعمال کرنا چاہتا ہوں اور گھر پر مطالعہ کے لیے کتابیں بھی ادھار لینا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے مجھے لائبریری کارڈ کی ضرورت ہے۔ کارڈ کے بغیر میں لائبریرین سے کوئی بھی کتاب جاری نہیں کروا سکتا۔

لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی مجھے لائبریری کارڈ جاری فرما دیں تاکہ میں اسکول کی لائبریری سے فائدہ اٹھا سکوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں لائبریری کے تمام قوانین کی پابندی کروں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 45 

جماعت: دہم


10. Application for Remission of Absence Fine

English Version

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Request for Remission of Absence Fine

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. I could not attend school for the last four days because I was suffering from a severe headache and fever.

Due to my illness, I was unable to send a leave application on time. As a result, a fine of 200 rupees has been charged for my absence. My father is a man of limited means, and it is difficult for him to pay this extra amount. I have always been a punctual student and my academic record is excellent.

Therefore, I request you to kindly remit my absence fine. I shall be very grateful to you for this act of kindness.

Yours obediently, X. Y. Z.

Roll No: 50 

Class: 10th


اردو ترجمہ (Urdu Version)

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: غیر حاضری کا جرمانہ معاف کرنے کی درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ میں پچھلے چار دنوں سے اسکول حاضر نہیں ہو سکا کیونکہ میں سر کے شدید درد اور بخار میں مبتلا تھا۔

بیماری کی وجہ سے میں وقت پر رخصت کی درخواست نہیں بھیج سکا تھا۔ جس کے نتیجے میں میری غیر حاضری پر 200 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ میرے والد صاحب محدود وسائل کے مالک ہیں اور ان کے لیے یہ اضافی رقم ادا کرنا مشکل ہے۔ میں ہمیشہ وقت کا پابند طالب علم رہا ہوں اور میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہترین ہے۔

لہذا، میری آپ سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی میرا غیر حاضری کا جرمانہ معاف فرما دیں۔ میں آپ کی اس ذرہ نوازی کے لیے بہت ممنون ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ

رول نمبر: 50 

جماعت: دہم


Conclusion (اختتامیہ)

English: We hope this collection of the Top 10 School Applications helps you in your exams and daily school life. These applications are written in simple English with accurate Urdu translations to ensure every student can understand and learn them easily. If you found this helpful, feel free to share it with your classmates and friends. Keep visiting Essays For All Student for more educational content.

اردو ترجمہ: ہم امید کرتے ہیں کہ ٹاپ 10 اسکول درخواستوں کا یہ مجموعہ آپ کے امتحانات اور روزمرہ کے اسکول کے معاملات میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ تمام درخواستیں سادہ انگریزی اور درست اردو ترجمہ کے ساتھ لکھی گئی ہیں تاکہ ہر طالب علم انہیں آسانی سے سمجھ سکے اور یاد کر سکے۔ اگر یہ پوسٹ آپ کے لیے مفید رہی ہو تو اسے اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ مزید تعلیمی مواد کے لیے ہماری ویب سائٹ Essays For All Student وزٹ کرتے رہیں۔

Wednesday, 1 April 2026

Top 10 Formal and Informal Letters for School Students (English & Urdu)

 

Important Formal and Informal Letters for Class 9 and 10 English Exams

1. Letter to a Friend (Informal)

Topic: Share about your exams

English:
Dear Ahmed,
I hope you are fine. My exams are starting next week. I am studying daily and revising all subjects. I hope your preparation is going well too. Best of luck!
Your friend,
Ali

Urdu:
پیارے احمد،
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرے امتحانات اگلے ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔ میں روزانہ پڑھائی کر رہا ہوں اور تمام مضامین دہر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کی تیاری بھی اچھی جا رہی ہوگی۔ نیک تمنائیں!
آپ کا دوست،
علی


⭐ 2. Letter to the Principal (Formal)

Topic: Request for Leave

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I am a student of class 10. I am ill and need rest for three days. Kindly grant me leave.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
میں کلاس 10 کا طالب علم ہوں۔ میں بیمار ہوں اور تین دن آرام کرنا ضروری ہے۔ براہِ کرم مجھے چھٹی دی جائے۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 3. Letter of Complaint (Formal)

Topic: Complain about a broken bench in school

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I want to inform you that one of the benches in our classroom is broken. It is unsafe. Kindly take necessary action.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
میں اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ ہماری کلاس کا ایک بینچ ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ غیر محفوظ ہے۔ براہِ کرم ضروری اقدام کریں۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 4. Letter for Thank You (Formal)

Topic: Thank the principal for organizing a sports event

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I sincerely thank you for organizing the recent sports event. It was enjoyable and motivating.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
میں آپ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے حالیہ کھیلوں کا پروگرام منعقد کیا۔ یہ بہت خوشگوار اور حوصلہ افزا تھا۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 5. Letter to the Editor (Formal)

Topic: Complaint about dust in the city

English:
To, The Editor, Daily News
Respected Sir/Madam,
I want to inform you about the increasing dust problem in our city. It is affecting health. Kindly highlight this issue in your newspaper.
Yours sincerely,
Ali

Urdu:
محترم مدیر صاحب،
میں آپ کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے شہر میں گرد و غبار کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ یہ صحت پر اثر ڈال رہا ہے۔ براہِ کرم اس مسئلے کو اپنے اخبار میں اجاگر کریں۔
آپ کا مخلص،
علی


⭐ 6. Letter for Invitation (Informal)

Topic: Invite a friend to your birthday party

English:
Dear Ahmed,
I am happy to invite you to my birthday party on 5th April at my home. Please come and enjoy with us.
Your friend,
Ali

Urdu:
پیارے احمد،
میں خوشی کے ساتھ آپ کو اپنی سالگرہ کی تقریب میں مدعو کرتا ہوں، جو 5 اپریل کو میرے گھر ہوگی۔ براہِ کرم آئیں اور ہمارے ساتھ خوشیاں منائیں۔
آپ کا دوست،
علی


⭐ 7. Letter for Application (Formal)

Topic: Request for a library card

English:
To, The Librarian, ABC School
Respected Sir/Madam,
I am a student of class 10. I want to use the school library. Kindly issue me a library card.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم لائبریرین صاحب،
میں کلاس 10 کا طالب علم ہوں اور اسکول کی لائبریری استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم مجھے لائبریری کارڈ جاری کریں۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 8. Letter for Apology (Formal)

Topic: Apologize for coming late

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I came late to school today due to traffic. I apologize for the inconvenience and will be punctual in the future.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
آج میں ٹریفک کی وجہ سے دیر سے اسکول پہنچا۔ میں اس تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہوں اور مستقبل میں وقت کی پابندی کروں گا۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 9. Letter for Appreciation (Formal)

Topic: Appreciate teacher for guidance

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I would like to appreciate my teacher for their guidance and support in studies. It helped me improve my results.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
میں اپنے استاد کی رہنمائی اور تعاون کی تعریف کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے میری تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


⭐ 10. Letter for Request (Formal)

Topic: Request to organize a science exhibition

English:
To, The Principal, ABC School
Respected Sir/Madam,
I request you to organize a science exhibition in our school. It will help students learn and participate actively.
Yours obediently,
Ali

Urdu:
محترم پرنسپل صاحب،
میں درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے اسکول میں سائنس نمائش کا انعقاد کیا جائے۔ یہ طلبہ کی سیکھنے اور فعال شرکت میں مدد دے گا۔
آپ کا فرمانبردار،
علی


Tuesday, 31 March 2026

Full Fee Concession Application for School with Urdu Translation (Class 9 & 10)

 

Easy English Fee Concession Application with Line-by-

Full Fee Concession Application 

To, The Principal, Govt. High School, (City Name).

Subject: Application for Full Fee Concession

Respected Sir,

With due respect, it is stated that I am a student of class 10th in your school. My father is a poor laborer and his monthly income is very low. He cannot pay my school fee because he has to support a large family.

I am very hardworking and I always stand first in my class. I have a great desire to continue my studies. Kindly grant me full fee concession so that I can fulfill my dreams.

I shall be very thankful to you for this kindness.

Yours obediently, X. Y. Z. Class: 10th


فیس معافی کی درخواست

بخدمت جناب پرنسپل صاحب، گورنمنٹ ہائی اسکول، (شہر کا نام)۔

عنوان: مکمل فیس معافی کی درخواست

جنابِ عالی،

انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ میرے والد ایک غریب مزدور ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی بہت کم ہے۔ وہ میری اسکول کی فیس ادا نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں ایک بڑے خاندان کی کفالت کرنی ہے۔

میں بہت محنتی ہوں اور ہمیشہ اپنی کلاس میں اول آتا ہوں۔ مجھ میں اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا بہت شوق ہے۔ برائے مہربانی میری مکمل فیس معاف فرما دیں تاکہ میں اپنے خواب پورے کر سکوں۔

میں اس مہربانی کے لیے آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔

آپ کا فرمانبردار شاگرد، ایکس۔ وائی۔ زیڈ جماعت: دہم


 

Sample text

Sample Text

 
Blogger Templates